اے یسوع !
حمید ہنری
گیت
مطالعات: 131
پسند: 0
اے یسوع ! دیکھ کہ آج بھی آدمی
عہد ِ ا مروز میں ہے بہ ایں روشنی
ظلمتوں کا شکار
اے نور کے مینار
غمگسار ِ بشر
دیکھ لے اک نظر
زیست ہے ارتقاء کی طرف گامزن
تکمیل ِ شوق کے باقی ہیں مرحلے
آدمی پِس رہا ہے زماں در زماں
اک نظامِِ فولاد و آہن کے تلے
تیرا درس ِ وفا
بھول بیٹھے ہیں سب
دیکھ لے آ کے اب
دشمنی کو بنایا ہے اس نے شعار
آدمی کو نہیں آدمی ہی سے پیار
ایک دوجے سے دست و گریبان ہیں
آدمیت کے دشمن یہ انسان ہیں
راہ ، حق ، زندگی
فاتح ِ کلوری
اب تفرقوں میں بٹ ہے گیا آدمی
ایک دھارے سے کٹ ہے گیا آدمی
راہِ حق و صداقت سے بھٹکا ہوا
وقت کی دار پر پھر ہے لٹکا ہوا
واپس جائیں