دل کی دنیا کے نہاں خانے کا در باز رہے
حمید ہنری
غزلیات
مطالعات: 140
پسند: 0
دل کی دنیا کے نہاں خانے کا در باز رہے
دوست! اظہار محبت کا یہ انداز رہے
سبز پتوں نے بہاروں کا ترانہ چھیڑا
اب نہ ہاتھوں میں ترے درد بھرا ساز رہے
سربریدہ میں زباں حال ستم کہتی ہو
آج مقتل میں سر دار یہ اعجاز رہے
برف پگھلی جو پہاڑوں پہ ہے سورج چمکا
اب تو دریا میں تموج کا وہ آغاز رہے
بے زبانو! یوں پکارو کہ تمہاری تا دیر
گونجتی گنبد افلاک میں آواز رہے
یہ عجب ہے کہ سر شام طرب جان حمید
کوئی افسردہ، کوئی زمزمہ پرداز رہے
واپس جائیں