اے فلک بوس عمارات کے شہر
اے کراچی، اے کراچی کے ساحل
کتنے مزدور جوانوں کا لہو
تیری تعمیر و ترقی میں ہے شامل
...
اہلِ محنت کے بڑھاپے نے بخشا
تیری گلیوں ، تیری سڑکوں کو شباب
تیری صبحوں کو اجالوں کی چمک
تیری راتوں کو چمکتا مہتاب
...
بارشِ نور و انوار ان سے
تیری راتیں ہیں ضیاء بار ان سے
یہ معیشت کے حقیقی ہیں خدا
تیری ملوں کا ہے کاروبار ان سے
...
فیضِ محنت سے زردار تُو
دستِ مزدور کا شہکار ہے تُو