بشارت
حمید ہنری
گیت
مطالعات: 104
پسند: 0
لب پہ ہم سب نویدِ مسیحا لئے
آج آئے ہیں دِل میں ارادہ لئے
یہ خبر جاکے سب کو سنائیں گے ہم
چار سُو یہ گواہی دہرائیں گے ہم
...
باغِ ہستی کے غنچے کھلائے گئے
ازسرِ نو ہیں مردے جلائے گئے
دیکھ لو سرنگوں موت کا ہے علم
یہ خبر جاکے سب کو سنائیں گے ہم
...
قیدیوں کو رہائی کا مژدہ ملا
جو تھے بیمار ان کو مسیحا ملا
بے کسوں پہ ہوئی آج نظرِ کرم
یہ خبر جاکے سب کو سنائیں گے ہم
...
جو تھے مفلس کبھی، زر رسیدہ ہوئے
رد کئے جو گئے، برگزیدہ ہوئے
بے ہنر ہیں بنے مردِ لوح و قلم
یہ خبر جاکے سب کو سنائیں گے ہم
...
بادشاہت خداوند کی آنے کو ہے
نوعِ انساں نئی زیست پانے کو ہے
چار سو، ہر طرف، ہر جگہ، ہر قدم
یہ خبر جاکے سب کو سنائیں گے ہم
واپس جائیں