رات تاروں بھری، دن ہے کتنا حسیں
حمید ہنری
گیت
مطالعات: 98
پسند: 0
رات تاروں بھری، دن ہے کتنا حسیں
جی اٹھا ہے مسیحا خدا کا یمیں
جی اٹھا، جی اٹھا، جی اٹھا ہے مسیح
اس زمیں سے پرے آسمانوں تلک
اس جہاں سے بھی اگلے جہانوں تلک
یہ ہمارا عقیدہ، ہمارا یقیں
جی اٹھا ہے مسیحا خدا کا یمیں
کلوری ظلمتوں میں اجالا بنی
موت خود زندگی کا حوالہ بنی
یہ حقیقت ہے کوئی فسانہ نہیں
جی اٹھا ہے مسیحا خدا کا یمیں
معجزہ کیا ہوا؟ موت بھی جی اٹھی
پھر امیدوں بھری زندگی جی اٹھی
رقص میں آسماں، رقص میں ہے زمیں
جی اٹھا ہے مسیحا خدا کا یمیں
واپس جائیں