مزدور کا دن
حمید ہنری
گیت
مطالعات: 124
پسند: 0
رامش و رقص و نُور کا دن ہے
آج مزدور کا دن ہے
...
جورِ پیہم سے روشن ہوئے ہیں دماغ
ظلمتوں میں جلائے گئے ہیں چراغ
مقتلوں میں ملا زندگی کا سراغ
عزمِ بالغ شعور کا دن ہے
آج مزدور کا دن ہے
...
ہم تو تہذیب کا اک اثاثہ رہے
اس تمدن کے چہرے کا غازہ رہے
اور نصرت کا ہم اک آوازہ رہے
فخرو ناز غرور کا دن ہے
آج مزدور کا دن ہے
...
یہ شکاگو کا گستردہ خوں دوستو
اب دکھائے گا اپنا فسوں دوستو
کہ ظفر یاب ہوگا جنوں دوستو
یعنی جہدِ جمہور کا دن ہے
آج مزدور کا دن ہے
...
آج اُترے صحیفے نئی زیست کے
وا ہوئے ہیں دریچے نئی زیست کے
اور رقم ہیں عریضے نئی زیست کے
وسعتِ بحرِ نُور کا دن ہے
آج مزدور کا دن ہے
...
عہدِ حاضر کا انجام بدلا ہے دیکھ
عہدِ تاریک کا نام بدلا ہے دیکھ
آج نظمِ صبح و شام بدلا ہے دیکھ
نظمِ بین السطور کا دن ہے
آج مزدور کا دن ہے
واپس جائیں