میری یادیں اُجالتا ہے کوئی
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 174
پسند: 0
میری یادیں اُجالتا ہے کوئی
اَب بھی مُجھ کو پُکارتا ہے کوئی
میری سوچوں پہ اُس کا پہرہ ہے
شعر میرے نِکھارتا ہے کوئی
جیسے جلتے دِیے مُنڈیروں پر
عُمر اپنی گُزارتا ہے کوئی
کھینچ لاتا ہے روشنی میں مُجھے
یوں مُقدّر اُجالتا ہے کوئی
ہم سے مِلنے کے بعد سمجھو گے
جِیت کر کیسے ہارتا ہے کوئی
ہے کوئی جو نَـظر نہیں آتا
ساری دُنیا کو پالتا ہے کوئی
کرکے خُود کو تباہ اے مانیؔ
تیری ہستی سَنوارتا ہے کوئی
واپس جائیں