یوں خَفا بے سَبب نہیں ہوتے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 110
پسند: 0
یوں خَفا بے سَبب نہیں ہوتے
یہ تماشے تو اب نہیں ہوتے
کیسے کر پاتا شاعری مَیں، اگر
ذَہن میں چَشم و لَب نہیں ہوتے
سَب کو کیوں حالِ دِل سُناتے ہو
رازداں اَپنے سَب نہیں ہوتے
کُچھ سِتارے فَقط چمکتے ہیں
رَوشنی کا سَبب نہیں ہوتے
آپ کے پاس تو نہیں ہیں مگر
آپ کے پاس کب نہیں ہوتے
فرق آہ و فُغاں میں ہوتا ہے
رَقصبِسمِل میں سَب نہیں ہوتے
رَنج و غَم کی کمی سَتاتی ہے
یہ مِرے پاس جَب نہیں ہوتے
مَـت نِکالو کِسی کو مَندر سے
اِس میں بھگوان کب نہیں ہوتے
تُم نَظر میں سمائے ہوتے ہو جَب
اَشک آنکھوں میں تَب نہیں ہوتے
دَوست بھی مانیؔ سائے جیسے ہیں
دِن کو ہوتے ہیں شَب نہیں ہوتے
واپس جائیں