موڑ آیا ہے اَب کہانی میں
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 104
پسند: 0
موڑ آیا ہے اَب کہانی میں
شہر ڈُوبا ہُوا ہے پانی میں
لوگ دَولَت پہ جان دیتے کرتے ہیں
مَیں نے دیکھا ہے زِندگانی میں
سارے کمرے میں تیری خُوشبو ہے
خاص ہے کُچھ تِری نِشانی میں
اَپنی مِٹّی سے دِل لگایا ہے
چین کِتنا ہے باغبانی میں
دیکھ حالَت کبھی غریبوں کی
لُٹ گئے تیری حُکمرانی میں
رَب کی رَحمت برستی ہے اُس پر
جو عِبادت کرے جَوانی میں
عام ہو کر بھی خاص ہے کِتنا
ہے کوئی بات خاص مانیؔ میں
واپس جائیں