دُور تک جَب دُھواں دِکھائی دے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 101
پسند: 0
دُور تک جَب دُھواں دِکھائی دے
صاف سَب کُچھ کہاں دِکھائی دے
تِیرگی اِس قَدر ہے آنکھوں میں
اَے خُدا آسماں دِکھائی دے
تِشنگی کاٹتی ہے سانسوں کو
خُشک لَب ہیں کُنواں دِکھائی دے
دَرمیاں اِک نَدی ہے نفرت کی
مَیں یہاں وہ وہاں دِکھائی دے
مُجھ کو صَحرا دِکھائی دیتا ہے
تُجھ کو آبِ رَواں دِکھائی دے
سامنے اِک بڑی عِمارَت ہے
میری کُٹیا کہاں دِکھائی دے
جو ستایا ہے مانیؔ اُلفت کا
دَشت کے دَرمیاں دِکھائی دے
واپس جائیں