خامشی بھی سُنائی دیتی ہے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 115
پسند: 0
خامشی بھی سُنائی دیتی ہے
جَب وہ صُورت دِکھائی دیتی ہے
زِندگی بھی ہے اِک قفس گویا
مَوت آ کر رِہائی دیتی ہے
مَیں بناتا ہُوں کاغذوں پہ دِیے
روشنی روشنائی دیتی ہے
ہم نے دیکھا ہے عِشق کا اَنجام
زخم ہی دِل رُبائی دیتی ہے
آ کے مالِک زمیں پہ دیکھ ذرا
کیسے خِلقَت دُہائی دیتی ہے
ہر خُوشی غم کا روک کر رستہ
چشمِ تر کو کمائی دیتی ہے
اِس قدر شور ہے مگر پھِر بھی
کِس کی دَھڑکن سُنائی دیتی ہے
جُھوٹ کہتی ہے یہ زَباں مانیؔ
آنکھ لیکن صفائی دیتی ہے
واپس جائیں