دُھواں ہے، شور ہے، وحشت ہے اِن ہواؤں میں
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 113
پسند: 0
دُھواں ہے، شور ہے، وحشت ہے اِن ہواؤں میں
اَثر رہا نہیں باقی مِری دُعاؤں میں
فقیر جانے فَلک میں یہ کھوجتا ہے کیا ؟
نہ جانے دیکھ رہا ہے وہ کیا خَلاؤں میں
مَیں اب کے سانس بھی لُوں گا تو جان جائے گی
یہ کِس نے گھول دِیا زَہر اِن ہَواؤں میں
تمام رَنج و اَلم شاعری میں ڈھال دِئیے
ہمارا دَرد سُنے کوئی اِن صَداؤں میں
ہر ایک ماں میں مُجھے ماں دِکھائی دیتی ہے
خُدا نے ڈالی ہے ممتا تمام ماؤں میں
مِرے نَصیب سے بَڑھ کر کِیا عَطا تُونے
ہے تیرا پیار خُدایا تِری عَطاؤں میں
یہ صبح و شام غَریبوں کو حَق نہیں دیتے
خُدا کا خوف نہیں مانیؔ اِن بلاؤں میں
واپس جائیں