اُلجھا ہوا ہوں مَیں بھی خیالوں کے درمیاں
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 135
پسند: 0
اُلجھا ہوا ہوں مَیں بھی خیالوں کے درمیاں
آہوں کے درمیاں کبھی نالوں کے درمیاں
آنکھوں میں خواب رکھ کے پریشاں ہیں بیٹیاں
چاندی چمکنے لگ گئی بالوں کے درمیاں
پیچھے پلٹ کے دیکھا تو حیران رہ گیا
بِکھرا پڑا تھا مَیں کئی سالوں کے درمیاں
تُم کو کِسی کے دِل کی اُداسی کی کیا خبر
رہتے ہو تُم تو چاہنے والوں کے درمیاں
دُشمن کے سارے وار ہی خالی چلے گئے
مَیں نے چلی ہے چال وہ چالوں کے درمیاں
اُس نے یہ اپنے ہونے کا اِعلان کر دیا
ماہ و نجوم باندھ کے سالوں کے درمیاں
مانیؔ مِرے نصیب میں اِک شخص لِکھ گیا
پتھّر بھی ہوں گے پاؤں کے چھالوں کے درمیاں
واپس جائیں