تیرے دَر پر کھڑا جو سائل ہے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 104
پسند: 0
تیرے دَر پر کھڑا جو سائل ہے
اُس کے دِل کا پرند گھائل ہے
خامشی کی زباں سمجھتا ہے بس
دِل عجب گفتگو کا قائل ہے
مَیں تو خُود سے بھی مِل نہیں پاتا
کوئی دِیوار مُجھ میں حائل ہے
اُس کے ہونٹوں پہ دَرد کے نغمے
اور پیروں میں چھنکے پائل ہے
فون جانے وہ کِیُوں اُٹھاتا نہیں
اُس کا نمبر اگرچہ ڈائل ہے
اِک اُداسی ہے اِن فَضاؤں میں
پھر بھی چہرے پہ اِک سمائل ہے
دوستوں میں ہُوں مُنفرِد مانیؔ
میری فِطرت وَفا پہ مائل ہے
واپس جائیں