دِل فِدا ہو گیا نَظاروں پر
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 128
پسند: 0
دِل فِدا ہو گیا نَظاروں پر
حُسن اُترا ہے کیا بہاروں پر
ہم مُسافِر ہیں گہرے پانی کے
ہم کو ڈُھونڈو نہ یوں کِناروں پر
اُس بُلندی پہ آ گئے ہیں ہم
دَسترس ہے ہمیں سِتاروں پر
کون ہے جو مُجھے پُکارتا ہے
خوف ہی خوف ہے چناروں پر
وقت نے چال ہی چلی ایسی
دَرد مِلتے ہیں رہگزاروں پر
لفظ چُبھتے ہیں تیرے کانوں میں
دِل مِرا رکھ دیا ہے آروں پر
بُھول بیٹھے ہیں مُسکرانا بھی
رحم کر اپنے غم کے ماروں پر
مانیؔ اپنے مِزاج کا مالِک
کِیُوں چلے گا تِرے اِشاروں پر
واپس جائیں