ہجر سے اِس لئے نہیں ڈرتے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 125
پسند: 0
ہجر سے اِس لئے نہیں ڈرتے
دِید کی آرزُو نہیں رکھتے
روشنی کی اَشد ضرُورت ہے
تیِرگی کھا گئی دِیے جَلتے
اِس قدر دُوریاں نہیں اَچھّی
تُم مِرے ساتھ کِیُوں نہیں چلتے
لوگ ایسے بھی ہم نے دیکھے ہیں
مَر کے بھی جو کبھی نہیں مرتے
تِتلیاں سب اُداس پِھرتی ہیں
رنگ پھُولوں میں کِیُوں نہیں ڈھلتے
دیکھ مانیؔ وہ مَر چُکے ہیں یہاں
آنکھ میں خواب جو نہیں بھرتے
واپس جائیں