وہ خُوش مزاج مِری زِندگی کا حِصّہ ہے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 129
پسند: 0
وہ خُوش مزاج مِری زِندگی کا حِصّہ ہے
اِسی لئے تو مِرے آس پاس رہتا ہے
یہ پیٹ بھر کے جو بچّوں کو نیند آتی ہے
نہ جانے دَرد ہیں کِتنے جو باپ سہتا ہے
امیرِشہر کے چرچے ہیں ساری دُنیا میں
غریبِشہر کا کِس کو خیال آتا ہے
تمام شہر ہے ڈُوبا ہُوا اندھیرے میں
بس اِک چراغ کِسی جھونپڑی میں جلتا ہے
غزل کے شعر جو میرے یہ لہلہاتے ہیں
کِسی کی یاد کا دریا اِدھر سے بہتا ہے
مَیں جانتا ہُوں کہ وہ شخص کِتنا اچھّا ہے
تُو بات بات پہ جِس کی مِثال دیتا ہے
تمام شہر کی آنکھوں میں تُم ہی رہتے ہو
خُدا نے تُم کو غضب کا جمال بخشا ہے
اِسی میں پِنہاں ہے تعبیر مانیؔ خوابوں کی
جو میری آنکھ کی پُتلی میں خواب پلتا ہے
واپس جائیں