گاؤں سے جب مَیں شہر آیا تھا
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 110
پسند: 0
گاؤں سے جب مَیں شہر آیا تھا
خواب آنکھوں میں باندھ لایا تھا
تُونے ٹھکرا دِیا مَحبّت کو
دِل ہتھیلی پہ دَھر کے لایا تھا
آبلے پڑ گئے تھے پاؤں میں
خواب میں اِتنا چل کے آیا تھا
اُس کے جانے پہ بے قرار ہے دِل
جِس کے آنے پہ مُسکرایا تھا
اُس نے بخشے ہیں ہار کانٹوں کے
پُھول جِس کے لئے مَیں لایا تھا
وہ بھی اِک روز کھو گیا مُجھ سے
جِس کو مُشکِل سے مَیں نے پایا تھا
روشنی کی اُسے ضرُورت تھی
ہم نے اپنا لہو جَلایا تھا
وہ ہی مانیؔ تھا اِعتماد مِرا
جِس سے مَیں نے فریب کھایا تھا
واپس جائیں