نقش سارے مِٹا کے آیا ہُوں
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 134
پسند: 0
نقش سارے مِٹا کے آیا ہُوں
اُس کی یادیں بُھلا کے آیا ہُوں
اِک سَمنُدر ہے آنکھ میں باقی
ایک دَریا بہا کے آیا ہُوں
ہائے اِک بے وَفا کی چاہت میں
عُمر ساری گنوا کے آیا ہُوں
دشتِ اُلفت میں عُمر کاٹی ہے
اپنی ہستی مِٹا کے آیا ہُوں
تیرے مَقتَل سے ڈر نہیں لگتا
دیکھ مَیں مُسکرا کے آیا ہُوں
عین مُمکِن ہے وقت کروٹ لے
ایک دُنیا جگا کے آیا ہُوں
دیر آنے میں کُچھ لگی لیکن
اپنا رستہ بنا کے آیا ہُوں
واپس جائیں