رُوپ میں آدمی کے آیا ہے
عمانوئیل نذیر مانی
مسیحی شاعری
مطالعات: 93
پسند: 0
رُوپ میں آدمی کے آیا ہے
لاکھوں خُوشیاں مسیحا لایا ہے
کِتنی چاہت سے آج دھرتی کو
آسماں نے گلے لگایا ہے
نُور ہی نُور ہے جہاں دیکھو
روشنی کا وہ دَور آیا ہے
ہر طرف ہے بہار کا منظر
آج لرزاں خِزاں کا سایا ہے
آسماں سے جو آیا چرنی میں
ساتھ ماؔنی نَجات لایا ہے
واپس جائیں