چار دِنوں کے میلے ہیں
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 126
پسند: 0
چار دِنوں کے میلے ہیں
لیکن بہت جھَمیلے ہیں
ہر سُو اُداسی چھائی ہے
دَرد و غم کے رَیلے ہیں
میٹھی باتیں کرنے والے
دوست مِرے اَلبیلے ہیں
جیون تیرے کِتنے سِتم
ہم نے ہنس کر جھیلے ہیں
کِتنی غُربت دیکھی ہے
کِتنے پاپڑ بیلے ہیں
بچپن ساتھ گُزارا ہے
ساتھ میں دونوں کھیلے ہیں
دِل میں پیار جگایا ہے
آنکھ میں خواب اُنڈیلے ہیں
مانیؔ عِشق میں بھٹک گئے
جِتنے قَیس کے چیلے ہیں
واپس جائیں