آئے ہو تُم اُچھالنے کے لیے
عمانوئیل نذیر مانی
غزلیات
مطالعات: 116
پسند: 0
آئے ہو تُم اُچھالنے کے لیے
دَرد ہوتے ہیں پالنے کے لیے
کِتنے پتھّر تَراشنے پڑے ہیں
ایک بُت کو نِکالنے کے لیے
رَنج و غَم سے بڑا بھی غَم یہ ہے
تُم نہ آئے سنبھالنے کے لیے
ریت پر دائرے بنانے لگا
کُچھ نہیں تھا خَیالنے کے لیے
جھانک لیتا ہُوں اَپنے ماضی میں
اُس کی یادیں اُجالنے کے لیے
مُسکرا کر وہ دیکھ لیتا ہے
میرے ہر غَم کو ٹالنے کے لیے
پھُول لایا ہے میرا قاتِل بھی
میری تُربَت پہ ڈالنے کے لیے
وِرد کرتا ہوں رات دِن مانیؔ
اِک مُصیبت کو ٹالنے کے لیے
واپس جائیں