کسی کو چھوڑ دیں تنہا، نہیں ایسا نہیں ہوتا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 122
پسند: 0
کسی کو چھوڑ دیں تنہا، نہیں ایسا نہیں ہوتا
نہ منزل ہو تو نہ رستہ، نہیں ایسا نہیں ہوتا
۔۔۔
وفاؤں کے یہ دروازے ہوئے ہیں بند کیوں، سوچا؟
نہ جانے تو نے کیا سوچا ، نہیں ایسا نہیں ہوتا
۔۔۔
چلو چائے پہ ملتے ہیں، کہا تھا ایک دن تم نے
مگر وہ دن نہیں آیا ، نہیں ایسا نہیں ہوتا
۔۔۔
سفر تو شرط ہے جاناں، مگر طوفان کے ڈر سے
کھڑی کشتی جلا دینا ، نہیں ایسا نہیں ہوتا
۔۔۔
موافق آ ہی جانا تھی نقیبؔ اک دن یہ اُداسی بھی
کہ ہر اک خط جلا ڈالا ، نہیں ایسا نہیں ہوتا
واپس جائیں