چھوڑ دے تجید رسم و راہ کی یہ ضد کہ اب
عارف پرویز نقیب
قطعات
مطالعات: 121
پسند: 0
چھوڑ دے تجدید رسم و راہ کی یہ ضد کہ اب
مجھ کو تو راس آ گئی ہے میری تنہائی نہ چھین
ہر جگہ، ہر ایک لب سے ہے ادا ہونا مجھے
میں کہ زندہ حرف ہوں بے وجہ گویائی نہ چھین
واپس جائیں