حیف
عارف پرویز نقیب
قطعات
مطالعات: 137
پسند: 0
میں تلاشِ یار کی چاہ میں کن مرحلوں سے گزر گیا
کبھی میں تھا دریا کے درمیان کبھی دریا مجھ میں اُتر گیا
کوئی کرب تھا مری ذات کا یا کہ وصفِ دستِ نصیب تھا
کہ جو آیا مجھ کو سمیٹنے میں اُسی کے ہاتھوں بکھر گیا
واپس جائیں