زمیں میں پاؤں گاڑے ہیں، چھوا ہے آسماں میں نے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 110
پسند: 0
زمیں میں پاؤں گاڑے ہیں، چھوا ہے آسماں میں نے
کہ رکھا ہی نہیں دل میں کبھی وہم و گماں میں نے
...
ذرا اک لغزش پاہی تو کھائی میں گرا دے گی
یوں راہِ زیست میں رکھا ہے رستوں کا دھیاں میں نے
...
ترے لالچ کی گٹھری میں بندھا تھا سیم و زر لیکن
ہے چوما پھانسی کا پھندا ، نہیں بدلا بیاں میں نے
...
تیری جھوٹی تلاوت سے تھا سب پہ نیند کا غلبہ
قرأت جو چھیڑی سچ کی تو یوں باندھا ہے سماں میں نے
واپس جائیں