وفا کی حد سے جو باہر نکل گیا ہوتا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 91
پسند: 0
وفا کی حد سے جو باہر نکل گیا ہوتا
یقین جانو کہ کب کا بدل گیا ہوتا
...
نہ آئے آنکھ سے باہر کہ آنسو دل پہ گرے
مکان کب کا وگرنہ یہ جل گیا ہوتا
...
وہ تو اک باڑ لگالی تھی ضبط کی میں نے
یہ دریا آنکھ کا وربنہ اُچھل گیا ہوتا
...
تیری نظر کا فسوں تھا میں زیرِ دام آیا
اے کاش لمحہ قیامت کا ٹل گیا ہوتا
...
وہ مِری آنکھیں تیرے پاس رہ گئیں ورنہ
میں تیرے شہر سے کب کا نکل گیا ہوتا
...
وہ بار بار کی قسموں پہ اعتبار کیا
نقیبؔ ورنہ میں گر کے سنبھل گیا ہوتا
واپس جائیں