اپنے اندر درد سمیٹے سوچ رہا ہوں
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 159
پسند: 0
اپنے اندر درد سمیٹے سوچ رہا ہوں
کٹ جائیں گے کیا یہ رستے سوچ رہا ہوں
۔۔۔
میرے شہر کے منصف اور رکھوالے بھی تو
بک جاتے ہیں کتنے سستے سوچ رہا ہوں
۔۔۔
میرا دشمن میرا ہی ماں جایا ہے تو
کیسے ماروں پتھر تھامے سوچ رہا ہوں
۔۔۔
’’ق‘‘
حرفوں کے اِس کھیل نے مھجھ کو بخشا کیا ہے
کاغذ اپنے سامنے رکھے سوچ رہا ہوں
۔۔۔
میں دو وقت کی روٹی بھی نہ دے پایا ہوں
کیا سوچیں گے میرے بچے سوچ رہا ہوں
۔۔۔
کتنے جذبے، کتنے ارماں، خواب سہانے
آج کا سورج کیا لے ڈوبے سوچ رہا ہوں
۔۔۔
آج نقیبؔ جو دیکھیں اس کی تصویریں تو
میں نے کتنے کھائے دھوکے سوچ رہا ہوں
واپس جائیں