ترتیب دے رہی ہے میری سانسوں کو یہ صلیب
عامر زریں
مسیحی شاعری
مطالعات: 2
پسند: 1
ترتیب دے رہی ہے میری سانسوں کو یہ صلیب
پُر نور کر رہی ہے میری راہوں کو یہ صلیب
...
مہر و وفا کے درس کی تشہیر کر گئی
لے آئی ربّ کے پاس سبھی بچھڑوں کو یہ صلیب
...
کلورؔ کی راہ پہ رقم وفائوں کی داستاں
محور پہ لے کے آئی زمانوں کو یہ صلیب
...
خُونِ مسیح نے بارِ گناہ سب کا لے لیا
لے آئی اپنی سمت گھرانوں کو یہ صلیب
...
کل تک عدوعِ جاں تھیں گناہوں کی تلخیاں
رکھے گی دُور سارے گناہوں کو یہ صلیب
...
ویراں خزاں رسیدہ چمن پھر مہک اُٹھے
لے آئی صحنِ جاں میں بہاروں کو یہ صلیب
واپس جائیں