ہم بھی نکل گئے ہیں تری داستان سے
عامر زریں
غزلیات
مطالعات: 2
پسند: 0
ہم بھی نکل گئے ہیں تری داستان سے
اوجھل ہوں جیسے تارے کبھی آسمان سے
...
سینچے ہیں بیل بوٹے سبھی خُونِ جگر سے
آتی رہے گی خشبو میری گلستان سے
...
کہتا ہے سارا شہر اُسے آشنا میرا
مُنکر کہاں ہیں ہم بھی بھلا اس بیان سے
...
منسوب ہے وہ مجھ سے، ضرورت بھی ہے میری
رکھتا ہوں میں عزیز اُسے قلب و جان سے
...
آ جائیں بن کے رونقِ دیوار و در کبھی
خطرے بہت ہیں راہِ وفا میں دھیان سے
...
ہم ہیں اسیرِ مہر، نگہ ڈالیے اِدھر
تیغِ ستم نہ پھر سے نکالیں میان سے
واپس جائیں