مہذب زندگی میں آگہی ہو
عامر زریں
غزلیات
مطالعات: 44
پسند: 1
مہذب زندگی میں آگہی ہو
تری قربت میں جب یہ زندگی ہو
سفر ہو ختم اپنی جستجو کا
چلن اپنا نہ اب آوارگی ہو
میسر روز و شب ہوں پُر مسرت
طبیعت میں نہ کوئی بے رُخی ہو
سکوں راحت جہاں کو راس آئیں
نہ درماندہ کوئی بھی آدمی ہو
ہوس باقی نہ ہو دُنیا کی کوئی
یہ طرزِ زیست اپنا بندگی ہو
واپس جائیں