تیری زلفوں کی الجھنوں میں کہیں
عامر زریں
غزلیات
مطالعات: 2
پسند: 0
تیری زلفوں کی الجھنوں میں کہیں
دل نادان گنوائے بیٹھے ہیں
...
تیرے ملنے کی دل میں اُمیدیں
صحن جاں ہم سجائے بیٹھے ہیں
...
بیت جائے تیرے ہی سنگ میری
دل میں خواہش دبائے بیٹھے ہیں
...
منزلوں کا نشہ بھی خوب ہوا
گھر کا رستہ بھلائے بیٹھے ہیں
...
فاصلے اب ہیں درمیاں اتنے
نقش پا سب مٹائے بیٹھے ہیں
...
جانے کس کی تلاش میں گم ہے
جنہیں محور بنائے بیٹھے ہیں
واپس جائیں