زیست اِک دریا ہے پار کرلیں گے
عامر زریں
غزلیات
مطالعات: 2
پسند: 0
زیست اِک دریا ہے پار کرلیں گے
ہجر بھی زہر مار کرلیں گے
...
کیا ہوا تُو نہیں ہے سنگ اگر
کارِ دُنیا دیوار کرلیں گے
...
کتنی مصروف زندگانی ہے
گر ہوا وقت پیار کرلیں گے
...
فُرقتوں کی نہ آگ میں جھلسیں
یاد تیری حصار کرلیں گے
...
رت جگے ہیں طریقِ شب بسری
خود کو لگتا بیمار کرلیں گے
...
ہو تیری سمت کا جو اندازہ
راستہ بھی ہموار کرلیں گے
...
گر ہے اندیشہء تاخیر ہمیں
ہم بہانے ہزار کرلیں گے
واپس جائیں