Fakhta logo
فاختہ بائبل اسٹڈی ٹولز
جلد متوقع مشمولات
خوش حال شاہوں کی نذر - فاختہ

خوش حال شاہوں کی نذر

وکٹر جان نظمیں مطالعات: 3 پسند: 0

دیار زندگی کی سب فصیلوں سے پٹک کے سر
وہ دشت اشتہا میں اب رداۓ رنج کو اوڑھے
وفور درد کو تھامے
اٹھاۓ اپنے بچے کو
چلی آتی ہے ننگے سر
جو اس بے فیض دنیا میں
قباۓ مفلسی اوڑھے
متاع زندگی بن کر اسے رستہ دکھاتا ہے
کہ مارے بھوک کے جس کی
صدائیں بھی, فغائیں بھی
دلوں کو چھید جاتی ہیں
یہ اس کے روبرو کیا ہے
تحیر دیکھتا ہے اور اپنی منفعل نظریں ہٹا لیتا ہے منظر سے
وہ اک عورت بلکتے اپنے بچے کی یہ چیخین سن نہیں سکتی
وہ لب بستہ و پا بستہ
ہے اپنا دودھ بھی اپنے جگر کو دے نہیں سکتی
کہ اس کے سوکھے پستانوں
کو غربت زہر نے کینسر کی صورت ایک ابدی نیند دے دی ہے
صداۓ ہم نفس گوش سماعت تک نہیں آتی
کوئی کونا کوئی گوشہ
اسے ڈھارس نہیں دیتا
جہان آرزو کے وہ پنپتے ان اندھیروں میں
ضیاۓ مفلسی لے کر ہوس سے چور جسموں سے
ترحم کی نظر مانگے
تہی دامان شاہوں کی
قباؤں سے لپٹ جاۓ گدائی رحم کی مانگے
مگر یہ بھول جاتی ہے
وہ اس پتلی تماشے کا بہت ادنی سا حصہ ہے
یونہی چلتے یونہی رکتے
وہ اک مقصود پاتی ہے
وہاں ہوٹل کی سیڑھی پر
پیالے میں اسے کچھ دودھ ملتا ہے
بلکتے اپنے بچے کو نوید جانفزا دے کر
وہ کہتی ہے کہ اب بھوکے نہیں سونا
اے میرے لعل
اب بھوکے نہیں سونا
پیالہ تھام کر بچے کے ہونٹوں سے لگانے کا ابھی سوچا ہی تھا اس نے
کہ مالک چھین کر پیالہ حقارت سے یہ کہتا ہے
ہٹو پیچھے
مرا کتا کبھی بھوکا نہیں سویا
کبھی بھوکا نہیں سویا
واپس جائیں

Please mark your visit by following our Facebook Page
اگر آپ بھی اپنی نگارشات فاختہ ڈاٹ آرگ پر شائع کرانا چاہتے ہیں تو۔۔۔ خوش آمدید