Fakhta logo
فاختہ بائبل اسٹڈی ٹولز
جلد متوقع مشمولات
تقاضہائے الفت - فاختہ

تقاضہائے الفت

وکٹر جان نظمیں مطالعات: 3 پسند: 0

میں تیرے ساتھ جینے کا ارادہ جب بھی کرتا ہوں
ترے ہمراہ سب آنسو بہانے کا جو سوچوں تو
سوئے دار و رسن تم کو
جو لانے کا میں سوچوں تو
نہاں خانہِ دل سے پھر مجھے آواز آتی ہے
کہ اِن دشوار رستوں پہ
کہ اِن پُر خار راہوں سے
جو گزرو گے
تو پھر تم کو متاع درد کے صحرا
میں بھی چلنا پڑے گا جاں
ندائے درد پھر مجھ کو یہاں مہمیز دیتی ہے
فضائے زرد کے جھونکوں میں جو خاموش بیٹھے ہیں
جو موقع پاتے ہی دل کی رگوں کو نوچ لیتے ہیں
میں ان ۔۔۔۔
خراشوں سے اٹے خوابوں سے تم کو دور ہی رکھوں
تقاضہائے الفت ہے کہ تم کو دور ہی رکھوں
یہ دل کے خاص قصے ہیں
تمہیں خونناب قصوں سے شناسا بھی نہیں کرنا
محبت ہے مجھے تم سے
مگر خاموش رہنا ہے
تمہارے دل کی دنیا میں ضیائیں جو لٹاتے ہیں
انہی رنگین خوابوں کو نیا ملبوس دینا ہے
محبت ایک جذبہ ہے
فقط یہ ایک جذبہ ہے
مگر جو مجھ سے پوچھو تو، تمہارے خواب وقعت میں
محبت سے - بہت اونچے! بہت اونچے ٹھہرے ہیں
سو یہ احساس، یہ جذبہ - مجھے دل ہی میں رکھنا ہے
کبھی لب پر نہیں لانا
بہت خاموش قدموں سے
سبک سانسوں کی لَو لے کر
تمہارے ساتھ چلنا ہے
اسی گوشے، اسی نگری، اسی بستی کے ساحل تک
جہاں تعبیر رکھی ہے
تمہارے مہنگے خوابوں کی، تمہیں پھر الوداع کہہ کر
مجھے تو لوٹ آنا ہے
خود اپنی ذات کے کمرے میں مجھ کو قید ہونا ہے
یہی میرا فریضہ ہے
یہی میرا فریضہ ہے
واپس جائیں

Please mark your visit by following our Facebook Page
اگر آپ بھی اپنی نگارشات فاختہ ڈاٹ آرگ پر شائع کرانا چاہتے ہیں تو۔۔۔ خوش آمدید