زندہ ہے مسیح
حمید ہنری
مسیحی شاعری
مطالعات: 131
پسند: 0
ظلمت کی رفاقت سے جو صاف مکر آیا
اک خوں کے سمندر سے، وہ پار اُتر آیا
اور موت کی وادی سے زندہ ہے گزر آیا
زندہ ہے مسیح، زندہ رہے گا
یسوع نے تراشے ہیں ، اُ مید کے پیکر
انساں کی آزادی کا وہ بن گیا محور
انساں کا مقدر ہے اب صبح ِ منور
زندہ ہے مسیح، زند ہ رہے گا
افلاک کی وسعت میں مہتا ب نئے دیکھیں
ٹھہرے ہوئے پانی میں گرداب نئے دیکھیں
بے نور نگاہیں بھی اب خواب نئے دیکھیں
زندہ ہے مسیح ، زندہ رہے گا
خود اپنے جواں خوں سے زندگانی کا لکھا
منشور محبت اور قربانی کا لکھا
اور آگ کے شعلوں سے سخن پانی کا لکھا
زندہ ہے مسیح، زندہ رہے گا
واپس جائیں