آس
حمید ہنری
گیت
مطالعات: 112
پسند: 0
آس
...
آس کے دیپ بجھیں نہ ہر گز
آس کا دامن چھُوٹے نہ
آس نگر نہ ہو اندھیارا
لاکھ سویرا پھوُٹے نہ
...
دکھ کی گھٹن ہے آخر کب تک
سُکھ کی ہوا ہے چلنے والی
سورج ہے نکلنے والا
غم کی رات ہے ڈھلنے والی
لاکھ شکستہ دل ہو لیکن
جذبوں کا دل ٹُوٹے نہ
...
اپنی منزل صبحِ منور
اپنی منزل دُور نہیں اب
آگے بڑھیں ہیں بڑھتے جائیں
پیچھے ہٹیں منظور نہیں اب
رستے میں دیوار اُٹھائے
ذوقِ سفر کوئی لُوٹے نہ
واپس جائیں