جفاکش لوگو!
حمید ہنری
گیت
مطالعات: 99
پسند: 0
جفاکش لوگو!
...
سُکھ کی جوت جگے گی اک دن
دکھ اندھیارے چھٹ جائیں گے
اے مظلوم جفاکش لوگو
ہم اک دن غالب آئیں گے
...
کچھ دیر اور زمانے میں ہم
دکھ اور مصائب جھیلیں گے
سڑکوں پہ یہ لوگ کہاں تک
اپنی عزت سے کھیلیں گے
...
کب تک انساں اس دنیا میں
انساں سے بیزار رہے گا
ہے عظیم ازل سے انساں
کب تک انساں خوار رہے گا
اپنی ذلت کی سوگند ہے
ہم کھوئی عظمت پائیں گے
ہم اک دن غالب آئیں گے
اے مظلوم جفاکش لوگو
...
نفرت کی شب ڈھل جائے گی
ذلت کے دن کٹ جائیں گے
ہم اک دن غالب آئیں گے
اے مظلوم جفاکش لوگو
واپس جائیں