ازل سے ابھی تک جو نہ ہو سکا
حمید ہنری
گیت
مطالعات: 97
پسند: 0
ازل سے ابھی تک جو نہ ہو سکا
فنا سے بقا تک کا قصہ ہوا
مسیح جی اُٹھا ہے، مسیح جی اُٹھا
لہو سے ہوا تھا جو روشن چراغ
اسی سے ملا زندگی کا سراغ
اسی سے فنا کو ملی ہے بقا
صلیبِ مسیحا، نئی زندگی
نئی روشنی ہے، نئی روشنی
یہی روشنی ہے نقیبِ بقا
صلیب ِ مسیحا بقا کا نشاں
یہاں سے وہاں تک ہیں ہم جاوداں
یہاں سے وہاں تک بقا ہی بقا
واپس جائیں