(کوہ ِ کلوری پر یسوع مسیح کی صلیبی موت کے پسِ منظر میں لکھی گئی۔)
(شاعر اور رات میں مکالمہ)
۔۔۔
رات اوڑھے ہوئے مخبوط گداگر کا لباس
میرے بے خواب شبستاں میں چلی آئی ہے
یہ وہی رات ہے جس رات کے اندھیروں نے
میرے احساس کو کچلا میری چاہت کی ہے
وہ ستم پیشہ شبِ غم، میری تنہائی میں
آج پھر کاسہ بکف، درد طلب آئی ہے
پاسِ دریوزہ گری آج بھی رکھتا لیکن
درد سے خالی مرا دل میری تنہائی ہے
مجھکو معلوم ہے کس رنگ میں آیا موسم
اک قتل گاہ کا بیدار ہوا پھر سے جمال
اور ایستادہ صلیبوں کے گھنے سائے میں
ماند پڑنے لگا انسان کی عظمت کا جلال
کلوری پہ ہے جو اس خون کی شبنم ٹپکی
کلی امید کی اے دوست ہے کھلنے والی
ہوچکے مردہ تھے جو اپنی خطاؤںکے سبب
اسی مقتل سے انہیں زیست ہے ملنے والی
مل گیا خاک میں ہے تیرے اندھیروں کا غرور
میرے آنگن میں ہے گلرنگ سویرا اترا
الوداع! اے ستم پیشہ شبِ رنج و الم
میں چلا مجھ کو اجالوں کا بلاوا آیا