خدمت
حمید ہنری
گیت
مطالعات: 96
پسند: 0
مسلک ہمارا دنیا میں خدمت اگر رہے
آسان پھر حیات کا ہر اک سفر رہے
...
اک دوسرے کا بوجھ اُٹھاتے رہیں گے ہم
اک دوسرے کے غم کو بٹاتے رہیں گے ہم
خدمت کا بول بالا تو ہر اک نگر رہے
...
ہم خدمتِ بشر میں یہ جیون گزار دیں
بگڑا ہوا جہاں کا مقدر سنوار دیں
خدمت میں اپنا نام ہمیشہ امر رہے
...
خدمت ہی آدمی کو ہے کرتی یہاں بلند
خادم کے واسطے ہیں یہ دونوں جہاں بلند
اے کاش خادموں پہ خدا کی نظر رہے
واپس جائیں