ایک طالب علم اپنی دیوار پر ایک تصویر لٹکانے لگتا ہے، لیکن اسے ہتھوڑی نہیں ملتی۔ اس لیے وہ اپنی ٹارچ اٹھاتا ہے اور اس سے کیل ٹھونکنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ طریقہ بالکل کام نہیں کرتا۔ پھر وہ ٹارچ کے ذریعے پکوڑوں یا کیک کا آمیزہ مکس کرنے، آٹا بیلنے اور مکھیاں مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اسے ورزش کے لیے ڈمبل کے طور پر اور یہاں تک کہ اپنے بال گھنگھریالے بنانے کے لیے بھی استعمال کرتا ہے، لیکن بے سُود کیونکہ ٹارچ اِن کاموں کے لیے بنائی ہی نہیں گئی تھی اور وہ مسلسل مایوس ہوتا چلا جاتا ہے۔ آخر کار، وہ ایک اونچے شیلف تک پہنچنے کے لیے ٹارچ پر پاؤں رکھتا ہے، وہ گر جاتا ہے اور اس کے گھر کی بجلی چلی جاتی ہے۔ اندھیرے میں بیٹھے ہوئے وہ اپنی ٹارچ کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے، اس کا سوئچ آن کرتا ہے تو کمرہ روشنی سے بھر جاتا ہے اور اُسے آخر کار ہتھوڑی بھی مل جاتی ہے۔ تب اُسے احساس ہوتا ہے کہ ٹارچ کبھی کیل ٹھونکنے یا آمیزہ مکس کرنے وغیرہ جیسے کاموں کے لیے بنی ہی نہیں تھی، بلکہ اِسے اندھیرے میں روشنی پھیلانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ہر چیز کسی نہ کسی مقصد کے لیے پیدا کی گئی ہے۔