فرض کیجئے کہ میرے گھر کے پچھلے صحن میں سیب کا ایک بہت بڑا درخت ہے اور ہر سال اِس پر کونپلیں پھوٹتی ہیں اور سیب لگتے ہیں۔ لیکن ٹھیک اُس وقت جب سیب توڑنے کے قابل ہوتے ہیں، وہ گل سڑ جاتے ہیں اور زمین پر گر جاتے ہیں۔ چند موسموں تک مسلسل ایسا ہی ہونے کے بعد، میری بیوی میرے پاس آتی ہے اور کہتی ہے کہ، ”پالؔ، سیب کا درخت ہونے اور اِس کے سیب کبھی نہ کھا پانے کا کوئی جواز سمجھ نہیں آتا۔ ہمارے حصے میں تو صرف ہمارے لان پر پھیلنے والا سڑا ہوا سیب ہی آتا ہے۔ کیا آپ ہمارے اِس سیب کے درخت کا کچھ علاج نہیں کر سکتے؟“ چنانچہ مَیں سوچ بچار کرتا ہوں اور میرے دِل میں ایک انوکھا خیال آتا ہے۔ مَیں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ مَیں اپنے درخت کو بالکل ٹھیک کرنے جا رہا ہوں اور اپنی ضرورت کا سامان لانے کے لئے مجھے تقریباً ایک گھنٹہ لگے گا۔
تھوڑی ہی دیر میں مَیں صحن میں ایک سیڑھی، ٹہنیاں کاٹنے والا کٹر، ایک صنعتی درجے کا اسٹیپلر (Stapler) اور سیبوں کے دو بڑے ٹوکرے لئے واپس پہنچ جاتا ہوں۔ مَیں احتیاط کے ساتھ درخت سے تمام سڑے ہوئے سیب کاٹ کر الگ کر دیتا ہوں اور اِس پر گہرے سرخ رنگ کے چمکدار اور لذیذ سیب اسٹیپل کر دیتا ہوں۔ اِس بات پر بے حد خوش ہو کر کہ مَیں نے مسئلے کا حل ڈھونڈ لیا ہے، مَیں اپنی بیوی کو درخت دیکھنے کے لئے صحن میں بلاتا ہوں۔
کیا یہ مضحکہ خیز حل معلوم ہوتا ہے؟ جی ہاں! یہ اِنتہائی مضحکہ خیز صورتحال ہے کیونکہ مَیں نے مسئلے کا حقیقی حل نکالا ہی نہیں ہے۔ یہ مسئلہ محض پھلوں کا مسئلہ نہیں تھا۔ خود اُس درخت کے اندر اِبتدا ہی سے کوئی بنیادی خرابی موجود ہے، یہاں تک کہ اُس کی جڑوں کے نظام میں، جسے تبدیل ہونے کی ضرورت ہے۔ مَیں نے بُرے پھل کو اچھے پھل سے بدل تو دیا ہے، لیکن وہ درخت خود اب بھی صحت مند پھل پیدا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اِس سے بڑھ کر یہ کہ، جو پھل مَیں نے مصنوعی طور پر درخت کے ساتھ جوڑے ہیں، وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتے کیونکہ اُن کے پاس زندگی پانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، یعنی وہ صحت مند جڑیں موجود ہی نہیں ہیں جو اُن کی پرورش کر سکیں۔