اُس باپ نے اپنی بیٹی کی ایک ایک سی ڈی (CD) کو اپنے پیروں تلے روند کر چکنار چُور کر ڈالا تھا۔ وہ ہر رات اُسے اُس کے کمرے میں بند کر دیتا تھا، اور دُعائیہ میٹنگ کے دوران پورے چرچ کے سامنے اعلانیہ طور پر اُس کے گناہوں کا تذکرہ کرتا تھا۔ اُس نے اپنی بیٹی کی سہیلیوں کے سامنے اُس کے چہرے پر تھپڑ مارا ، اور اُسے اُکسانے اور نیچا دکھا کر فرمانبرداری پر مجبور کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ اُسے یہ یاد دلانے سے کبھی نہیں چوکتا تھا کہ وہ خود جوانی کے دَور میں ایک مثالی بچہ تھا۔ میرے دفتر میں، اُس نے پورے جوش اور عزم کے ساتھ مجھ سے کہا، ”مَیں اُس سے اپنی عزت کروا کر ہی دم لوں گا، خواہ یہ میری زندگی کا آخری کام ہی کیوں نہ ہو!“
عزت پانے کی چاہ ہی اُس کا بُت بنی بیٹھی تھی۔ اُسے پورا یقین تھا کہ وہ اِس کا حقدار ہے۔ چنانچہ، ہر معاملہ اُس کے لئے عزت اور انا کا مسئلہ بن جاتا تھا۔ جہاں بیٹی کی طرف سے کوئی بے ادبی نہیں بھی ہوتی تھی، وہاں بھی اُسے اپنی بے عزتی ہی نظر آتی تھی۔ زندگی فائنل امتحانات کا ایک ایسا سلسلہ بن کر رہ گئی تھی جس میں اُس نے اپنی بیٹی کو کبھی فیل سے بہتر نمبر نہیں دیئے تھے۔ وہ اپنی بیٹی کی نشوونما، عدمِ تحفظ اور دَورِ لڑکپن کی تمام تر الجھنوں کو اپنی ذاتی توہین سمجھتا تھا۔ اُس کی سوچ میں کوئی عمودی یا روحانی پہلو سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ وہ اپنی بیٹی کو خُدا کے ساتھ اُس کے تعلق کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے، صرف اپنے ساتھ اُس کے رشتے کی نظر سے دیکھتا تھا۔ وہ خود کو ایک ایسے خادم کے طور پر نہیں دیکھ پا رہا تھا جس کا کام بیٹی کی رہنمائی کرنا ہے تاکہ اُس کے دِل میں خُدا کا وہ خوف پیدا ہو سکے جو زندگی بخشتا ہے۔ اُس کا دِل اِس واحد ہدف کے پیچھے بھاگ رہا تھا کہ بیٹی اُس سے ڈرے اور اسے وہ عزت دے جس کا وہ خود کو حقدار سمجھتا تھا۔
کیا عزت ایک اچھی چیز ہے؟ یقیناً! کیا یہ ایک ایسی چیز ہے جسے والدین کو اپنے بچوں کے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے؟ جی ہاں! لیکن اِسے میرے دِل پر حکمران نہیں ہونا چاہیے، وگرنہ مَیں اُن باتوں کو بھی اپنی ذات پر لے لوں گا جو ذاتی نوعیت کی نہیں ہیں، مَیں خُدا کے نمائندے کے طور پر اپنے اصل کردار کو نظرانداز کر دوں گا، اور مَیں اِس چیز کو چھیننے کے لئے لڑوں گا اور اِس کا مطالبہ کروں گا جسے صرف خُدا ہی پیدا کر سکتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ باپ اُس بُت سے بالکل اندھا ہو چکا تھا جو اُس کے دِل پر راج کر رہا تھا، اور وہ اِس حقیقت کو دیکھنے سے بھی قاصر تھا کہ عزت پانے کی اِسی اندھی خواہش کے چکر میں، وہ اپنی بیٹی کو بالکل اِس کے برعکس ردِعمل ظاہر کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔