اس سیکشن پر کام جاری ہے جس میں 5000 سے زائد تمثیلات شامل کی جائیں گی۔
| تمثیلوں کا خزانہ
نیویگیشن مینو
ہوم پیج
زمرہ جات

اولاد، باپ، تربیت، نظم و ضبط، یوتھ

تبدیلی کے الٰہی لمحوں کو پہچاننا

5 07 Jun, 2026
یہ موسمِ سرما کے منگل کی ایک سرد رات تھی۔ مَیں نے سارا دن اصلاح کاری اور مشاورت کی متعدد نشستیں نپٹائی تھیں اور شام کو تین گھنٹے پڑھایا بھی تھا۔ رات کے تقریباً دس بجے مَیں گاڑی چلا کر گھر واپس آ رہا تھا، اور دِل ہی دِل میں بستر پر لیٹنے سے پہلے ایک آدھ گھنٹہ ذہنی آرام و سکون پانے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ مجھے دِل ہی دِل یہ اُمید بھی تھی کہ کسی نامعلوم وجہ سے پورا خاندان رات نو بجے ہی سو گیا ہو۔ یا اگر وہ بستر پر نہیں بھی گئے، تو اُمید ہے کہ وہ فطری طور پر یہ جان لیں گے کہ مَیں بہت تھکا ہُوا ہوں اور مجھے اِس وقت بالکل بھی پریشان نہ کِیا جائے۔ مَیں نے یہ دلیل گھڑی کہ مَیں نے اُس دن پوری دلجمعی، یکسوئی اور وفاداری کے ساتھ خُدا کے لوگوں کی خدمت کی تھی۔ یقیناً، خُدا بھی اِس بات سے متفق ہوگا کہ اب مجھے زندگی کی مصروفیات سے چند گھنٹوں کی چھٹی ملنی چاہیے! مَیں ایک خالی فیملی روم، برف سے لبالب ڈائٹ کوک، اخبار اور ٹی وی کے فارغ ریموٹ کنٹرول کے سپنے دیکھ رہا تھا۔ مَیں مکمل طور پر نڈھال ہو چکا تھا اور مکمل سکون پانا اب میرا حق تھا۔ (آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مَیں کس قدر بے غرض خادمانہ جذبے کے ساتھ اپنے گھر کی طرف رواں دواں تھا!) مَیں نے اِس موہوم اُمید کے ساتھ دبے قدموں دروازہ کھولا کہ مَیں کسی کی نظروں میں آئے بغیر اندر کھسک جاؤں گا۔ ڈرائنگ روم کی بتیاں گُل تھیں اور پورا گھر پر سکون تھا۔ میرا دِل اُمید سے بھر گیا۔ شاید میرے خواب سچے ہونے والے تھے یعنی صرف میرے لیے آرام اور سکون کی ایک پُرکشش شام۔ مَیں نے دروازے کے اندر ابھی پہلا قدم ہی رکھا تھا کہ مجھے ایک غصیلی آواز سنائی دی۔ میرا دِل بیٹھ گیا! مَیں تو ایسا ظاہر کرنا چاہتا تھا جیسے مَیں نے کچھ سنا ہی نہیں۔ یہ میرے ٹین ایج بیٹے ایتھنؔ کی آواز تھی۔ میری مایوسی جلد ہی غصے میں بدل گئی۔ میرا جی چاہا کہ مَیں اسے پکڑ کر کہوں، ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میرا سارا دن کیسا گزرا ہے؟ کیا تم نہیں جانتے مَیں کتنا تھکا ہوا ہوں؟ اِس وقت مجھے جس آخری چیز کی ضرورت ہے، وہ تمہارے مسائل سے نمٹنا ہے۔ تمہیں یہ مسئلہ خود ہی حل کرنا ہوگا۔ کاش تُم زندگی میں ایک بار اپنے سِوا کسی اَور کے بارے میں بھی سوچتے۔ مَیں تُم لوگوں کے لیے کیا کچھ نہیں کرتا اور بدلے میں مجھے یہ صلہ ملتا ہے؟ کیا تُم مجھے ایک رات بھی اکیلا نہیں چھوڑ سکتے؟“ یہ تمام خیالات میرے اندر ایک طوفان مچا رہے تھے، لیکن مَیں نے زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکالا۔ مَیں نے ایتھنؔ کی بات کو سُنا جو اپنی شکایت کا اظہار کر رہا تھا۔ وہ اپنے بڑے بھائی سے اِس قدر خفا تھا جتنا مَیں نے اسے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ وہ اِس حقیقت کو کوس رہا تھا کہ اُس کا ایک بڑا بھائی ہے جس کا کام بظاہر اِس کی ”زندگی کو تباہ و برباد“ کرنے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ رات کے دس بج چکے تھے۔ جس معاملے سے یہ جھگڑا شروع ہوا تھا وہ انتہائی معمولی تھا۔ میرا دِل چاہ رہا تھا کہ مَیں اسے کہوں کہ اپنے جذبات پر قابو پائے اور خود ہی اِس سے نمٹے، لیکن ایک دوسرے ہی منصوبے نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا۔ یہاں میرے سامنے غیر متوقع موقعے کا ایک ایسا ہی لمحہ موجود تھا یعنی روزمرہ کی زندگی کا ایک ایسا لمحہ جسے ایک محبت کرنے والے اور قادرِ مطلق خُدا نے مقرر کِیا تھا جہاں میرے ٹین ایج بچے کا دِل کُھل کر میرے سامنے آ رہا تھا۔ یہ صرف ایتھنؔ اور اُس کے والد کے درمیان کا لمحہ نہیں تھا۔ یہ تو خُدا کا مقرر کردہ لمحہ تھا، مخلصی اور فضل کا ایک متحرک لمحہ جہاں خُدا نجات کے اُس کام کو آگے بڑھا رہا تھا جو اُس نے برسوں پہلے میرے بیٹے کی زندگی میں شروع کِیا تھا۔ اُس لمحے میں واحد سوال یہ تھا کہ کیا مَیں خُدا کے منصوبے کی پیروی کروں گا یا اپنے ذاتی مفاد کی؟ کیا مَیں اُس لمحے انجیل کی سچائی پر قائم رہوں گا، اور خُدا پر یہ بھروسا رکھوں گا کہ وہ مجھے وہ سب کچھ عطا کرے گا جس کی مجھے ضرورت ہے تاکہ مَیں وہ کام کر سکوں جس کی بلاہٹ وہ مجھے میرے بیٹے کی زندگی میں دے رہا تھا؟ مَیں نے ایتھنؔ سے کہا کہ وہ کھانے کی میز پر بیٹھ جائے اور مجھے بتائے کہ اصل بات کیا ہے۔ وہ دُکھی اور غصے میں تھا۔ اُس کا دِل میز پر کُھلا پڑا تھا۔ ہم نے اُس کے غصے کے پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت کی اور اپنے دِل کا سارا غبار نکال لینے کے بعد اب وہ سننے کے لیے تیار تھا۔ اپنے بھائی کے ساتھ ایک معمولی تکرار نے اُن باتوں پر گفتگو کا دروازہ کھول دیا جو کسی بھی طرح معمولی نہیں تھیں۔ خُدا نے مجھے قوت اور صبر عطا کِیا۔ اُس نے میرے منہ میں وہی باتیں ڈالیں جو کہنا اِس وقت موزوں اور ضروری تھا۔ ایتھنؔ نے اُس رات اپنے آپ کو ایک نئے زاویے سے دیکھا اور اِسی تفہیم کے تحت اُن چیزوں کا اعتراف کِیا جنہیں اُس نے اِس سے پہلے کبھی تسلیم نہیں کِیا تھا۔ جب مَیں نے ایتھنؔ کو گڈ نائٹ کہا تو آدھی رات ہونے والی تھی۔ ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور سونے کے لیے چلے گئے۔ جو چیز پہلی نظر میں ایک واضح طور پر معمولی معاملے پر ایک پریشان کن اور چِڑچِڑے لمحے کی طرح دکھائی دے رہی تھی، وہ درحقیقت خدمت کا ایک شاندار اور بابرکت موقع تھی، جسے محبت بھرے خُدا نے ہمارے لئے مقرر اور متعین کِیا تھا۔ یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ خُدا صرف ایتھنؔ کو تبدیل کرنے کے لیے کام نہیں کر رہا تھا بلکہ ساتھ ہی ساتھ وہ میرے باطن کو بھی تبدیل کر رہا تھا۔ اُس شام میرے اپنے دِل کی خود غرضی بے نقاب ہو گئی تھی، وہی خود غرضی جو والدین کو اُنہی ٹین ایج بچوں پر غصے میں چلانے پر مجبور کرتی ہے جنہیں اِس وقت سب سے زیادہ اُن کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسیحؔ کے لیے میری اپنی محتاجی بھی آشکار ہو چکی تھی۔ دوسری صورت میں ، اِس بات کا کوئی امکان ہی نہ تھا کہ مَیں اُس کی عنایت کردہ طاقت کے بغیر اُس کے ہاتھوں میں تبدیلی کا ایک مؤثر وسیلہ بن سکتا۔