اس سیکشن پر کام جاری ہے جس میں 5000 سے زائد تمثیلات شامل کی جائیں گی۔
| تمثیلوں کا خزانہ
نیویگیشن مینو
ہوم پیج
زمرہ جات

انصاف، باپ، بچے، تربیت، سنڈے اسکول، عملی تمثیلیں

تربیت میں انصاف کا معاملہ

3 15 Jun, 2026
آئیے ایک اَیسی مانوس مثال لیتے ہیں جو کسی بھی اَیسے گھر میں عام پائی جاتی ہے جہاں دو یا دو سے زیادہ بچے موجود ہوں۔ بچے کھیل رہے ہیں اور کسی مخصوص کھلونے پر اُن کے درمیان ایک جھگڑا ہو جاتا ہے۔ والدین کا روایتی ردِعمل ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ”یہ کھلونا پہلے کس کے پاس تھا؟“ یہ ردِعمل دِل کی اصل حالت گنوا دیتا ہے۔ ”یہ کھلونا پہلے کس کے پاس تھا؟“ محض ایک اِنسانی انصاف کا معاملہ ہے۔ یہ اِنسانی انصاف صرف اُسی بچے کے حق میں کام کرتا ہے جس نے اِنتہائی چستی دِکھا کر کھلونے پر پہلے ہاتھ مارا تھا۔ اگر ہم اِس پوری صورتِ حال کو دِل کے زاویے سے دیکھیں، تو یہ مسئلہ یکسر بدل جاتا ہے۔ اب اِس صورتِ حال میں آپ کے سامنے دو خطا کار موجود ہیں۔ دونوں ہی بچے ایک دُوسرے کے حوالے سے اپنے دِل کی سختی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ دونوں ہی اِنتہائی خود غرضی برت رہے ہیں۔ دونوں بچے عملی طور پر یہی کہہ رہے ہیں کہ، ”مجھے تمہاری یا تمہاری خوشی کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ مجھے تو صرف اپنی ذات سے غرض ہے۔ مجھے یہ کھلونا چاہیے۔ میری خوشی اِس کھلونے کو حاصل کرنے پر اٹک گئی ہے۔ مَیں اسے لے کر ہی خوش رہوں گا، خواہ اِس سے تمہیں کتنی ہی تکلیف کیوں نہ پہنچے“۔ اگر دِل کے زاویے سے پرکھا جائے، تو اِس وقت آپ کے سامنے دو گنہگار بچے موجود ہیں۔ دو بچے ایک دُوسرے پر اپنی ذات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ دو بچے خُدا کی شریعت کو توڑ رہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ دونوں کے ظاہری حالات مختلف ہیں۔ ایک بچہ وہ کھلونا چھین رہا ہے جو دُوسرے کے پاس ہے۔ دُوسرا بچہ اپنے پہلے اِختیار کا فائدہ اٹھا کر اسے اپنے ہی پاس رکھنا چاہتا ہے۔ ظاہری حالات یقیناً مختلف ہیں، لیکن دِل کا اصل مسئلہ دونوں کا ایک ہی ہے، یعنی ”مجھے اپنی خوشی چاہیے، خواہ اِس کے لئے مجھے تمہارا ہی نقصان کیوں نہ کرنا پڑے“۔