میں نے حال ہی میں ایک میرج کانفرنس کے اندر ٹین ایج کے برسوں سے متعلق کچھ اِسی قسم کے نقطۂ نظر کا سامنا کِیا۔ وہ ہر لحاظ سے ایک بہترین ایک اینڈ تھا۔ تعلیم بہت دل چسپ، پُر اثر اور حوصلہ افزا تھی۔ قیام و طعام شاندار تھا، اور کانفرنس سمندر کے کنارے ایک خوبصورت مقام پر منعقد کی گئی تھی۔ ویک اینڈ کے قریب، میں خلیج کے پانیوں پر چمکتی ہوئی دھوپ کا نظارہ کر رہا تھا جب میں نے پاس ہی بیٹھے ایک جوڑے کو دیکھا۔ وہ بہت ناخوش دکھائی دے رہے تھے۔
مجھے تجسس ہوا، اس لیے میں نے ان سے پوچھا کہ آیا وہ ویک اینڈ سے خوب لطف اندوز ہوئے یا نہیں ۔ انہوں نے جواب دیا کہ سب کچھ بہت بہترین رہا تھا۔ میں نے ازراہِ تفنن کہہ دیا کہ آپ کچھ زیادہ خوش دکھائی نہیں دے رہے۔ خاتون نے جواب دیا، ”ہمارے دو ٹین ایج بچے ہیں اور ہم گھر جانے سے ڈر رہے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ ویک اینڈ ہمیشہ کے لیے جاری رہے!“ اس کے شوہر نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا، ”آپ کو اپنے ٹین ایج بچے سے سرکشی کی ہی توقع رکھنی چاہیے؛ ہم سب بھی ایسے ہی تھے، بس آپ کو یہ وقت کسی نہ کسی طرح گزارنا ہوتا ہے۔“ خاتون نے آہ بھرتے ہوئے مزید کہا، ”اس کے علاوہ، آپ ہارمونز (hormones) سے تو بحث نہیں کر سکتے!“
میں وہاں سے یہ گہرا اثر لیے ہوئے چل دیا کہ بچے کی زندگی کے اِس دَور کے بارے میں ہماری سوچ میں بنیادی طور پر کچھ غلط ہے۔ ہمارے ٹین ایج بچوں کے بارے میں خوف اور قنوطیت کی اس ثقافتی وباء میں خُلقی طور پر کچھ نہ کچھ غلط ہے۔ جب کسی والد یا والدہ کا اعلیٰ ترین ہدف محض بقا ہو، تو کچھ نہ کچھ ضرور غلط ہے۔ ہمیں ایک نیا متبادل نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔