در و دیوار ڈراتے ہیں مجھے
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 77
پسند: 0
در و دیوار ڈراتے ہیں مجھے
خواب کیا کیا نظر آتے ہیں مجھے
۔۔۔
پھیلتا جاتا ہے آنکھوں کا ہجوم
آئینے مجھ سے چھپاتے ہیں مجھے
۔۔۔
ان لکھے صفحوں کے سناٹے میں
لفظ جلتے نظر آتے ہیں مجھے
۔۔۔
کچھ نئی شکلیں ہیں آوازوں میں
کچھ نئے نام بلاتے ہیں مجھے
۔۔۔
صورتیں کرتی ہیں ماتم میرا
ہاتھ لکھتے ہیں مٹاتے ہیں مجھے
۔۔۔
کاٹ دیتی ہیں شعاعیں مجھ کو
سائے مٹی سے اگاتے ہیں مجھے
واپس جائیں