اے سُرخ ستارے مشرق کے
سنگینوں پر جو پُھول کِھلے
وہ کِس کے لہُو کی دولت تھے
جو پاؤں دُھول میں دُھول ہوئے
وہ کس منزل کی قسمت تھے
اے سُرخ ستارے مشرق کے
آدھی دھرتی، آدھا سُورج
کس تیغ کی نوک پہ گھوم گئے
پھانسی کی اندھی رسی پر
وہ کون سجیلے جُھوم گئے
اے سُرخ ستارے مشرق کے