فصلِ گُل آئے زمانے ہو گئے
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 190
پسند: 0
فصلِ گُل آئے زمانے ہو گئے
زخم شاخوں کے پُرانے ہو گئے
۔۔۔
خاک اُڑا کر رہ گئی موجِ صبا
دفن مٹی میں خزانے ہو گئے
۔۔۔
کھڑکیوں میں پُھول کھلتے تھے جہاں
وہ گلی کوچے فسانے ہو گئے
۔۔۔
کُچھ تو ہم پہلے ہی تھے آشفتہ سر
اور کچھ تیرے بہانے ہو گئے
۔۔۔
لوٹ آئے تیر اپنی ہی طرف
گم خلاؤں میں نشانے ہو گئے
واپس جائیں